اپنے نفس کو خالی کرنا تاکہ نور میں داخل ہو سکیں: سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ تک کھنچنے والا مقناطیسی راستہ
تعلیماتِ محبوب سیدّی شیخ نورجان میر احمدی نقشبندی (ق) کی روشنی میں
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى أَشْرَفِ الْمُرْسَلِيْنَ، سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدُنِ الْمُصْطَفٰى ﷺ. مَدَدْ يَا سَيِّدِي يَا رَسُوْلَ الْكَرِيْم، يَا حَبِيْبُ الْعَظِيْم، اُنْظُرْ حَالَنَا وَاشْفَعْ لَنَا، عَبِيْدُكُمْ بِمَدَدِكُمْ وَنَظَرِكُمْ
.أَطِيعُواللَّه وَأَطِيعُوٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
اپنے نفس کیلئے ہمیشہ یاد رہے کہ اَنَا عَبْدُكَ الْعَاجِزُ ضَعِیْفُ مِسْکِینُ ظَالِمْ وَ جَھَلْ – یا ربی میں ایک بندہِ عاجز ہوں ، ضیعف ہوں، مسکین ہوں، ظالم اور جاہل ہوں اور لیکن اللہ عزوجل کا فضل ہے کہ ہم ابھی تک زندہ ہیں۔
أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُم… ﴿٥٩﴾ …
اللہ عزوجل کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اُن کی جو تم میں سے صاحبانِ امر (اولیااللہ) ہیں۔ ( سورۃ النساء 4:59 )
اس دور میں، جب دنیا ہر طرف سے غفلت، نفسانیت اور ظاہری مذہبیت کے خول میں جکڑی جا چکی ہو، حقائق کی طرف پلٹنے کی سب سے عظیم رحمت “طریقۂ محمدیہ” ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے سچے طالب اپنے اصل، یعنی اپنے رب کی طرف واپس پلٹتے ہیں۔ 
محبوب شیخ نورجان میر احمدی (قدس سرہ) ہماری اس پُرفتن دنیا میں اللہ تعالیٰ کے اُن اولیاء میں سے ہیں جنہوں نے آسمانی علوم کے سمندر کھول دیے۔ ان کی تعلیمات انسان کو عاجزی، خود احتسابی، محبت، اور سیدنا محمد ﷺ کی روحانی حضوری کی طرف کھینچتی ہیں۔
آئیے آج کی ان کی روحانی گفتگو کو ایک مربوط مضمون میں سمجھیں، تاکہ ہمارے قلوب و ارواح اس نورِ محمدی ﷺ سے منور ہو سکیں۔
فنا کا اعلان: ’’میں کچھ بھی نہیں‘‘
سلوک کا پہلا قدم یہی اعلان ہے:
’’یا رَبّی، میں کچھ بھی نہیں۔ جو کچھ تُو نے مجھے دیا ہے، میں اپنی زندگی اسی میں صرف کر رہا ہوں کہ اپنے پیالے کو خالی کر دوں تاکہ تُو اپنی حقیقتوں کے سمندر سے مجھے بھر دے۔‘‘
یہ صرف زبانی اعلان نہیں، بلکہ وجودی اقرار ہے—ایک ایسا مقام جہاں انسان اپنے وجود، خواہش، عقل، علم، مال، اور طاقت کو اللہ کے سامنے صفر مان لیتا ہے۔
- ہماری خوبصورتی، اللہ کی جمال کے سامنے کچھ نہیں۔
- ہمارا علم، اللہ کے علم کے سمندر کے سامنے ایک قطرہ ہے۔
- ہماری دولت، غیب کے خزانے کے سامنے مٹی ہے۔
جب ہم واقعی خالی ہو جاتے ہیں تو اللہ ہمیں بھرنا شروع کرتا ہے۔ اور جب ہم اپنے آپ کو ’کچھ‘ سمجھتے ہیں تو اللہ کا نور بند ہو جاتا ہے۔
دل کا میدان: کون تم پر حکومت کر رہا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَّا جَعَلَ اللَّـهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ … ﴿٤﴾
’’اللہ نے کسی مرد کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب 33:4)
محبوب شیخ (قدس سرہ) فرماتے ہیں کہ یہ صرف شعری انداز یا ظاہری تشبیہ نہیں بلکہ روحانی قانون ہے۔ مرد کا دل اللہ ہی کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔
دل نہ نفس کے لیے ہو، نہ دنیا کے لیے، نہ شہوت کے لیے—بس خالص اللہ کے لیے۔
- اگر سوشل میڈیا، فیشن، یا دوسروں کی تعریف تمہیں مسرور کرتی ہے تو تم ان کے غلام ہو۔
- اگر تمہاری خواہشیں تمہارے وقت، سوچ اور دل پر غالب ہیں تو وہی تمہارے رب ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں کہ عورت کی عبادت کا ڈھانچہ مختلف ہے—اس کی عبادت اپنے شوہر کی خدمت اور اولاد کی پرورش میں ہے۔ مگر مرد کے لیے راستہ صاف ہے: صرف اللہ کی عبادت اور بندگی۔
عبادت کا جوہر: تفکر (تدبر)
محبوب شیخ فرماتے ہیں کہ اس دور میں سب سے اعلیٰ عبادت ’’تفکر‘‘ ہے—یعنی دل کی گہرائی سے اللہ تعالیٰ کی قربت میں سوچ بچار۔
- صرف نماز یا روزہ کافی نہیں، جب تک دل خالص نہ ہو۔
- عبادت کا اصل جوہر حاضری، روحانی توجہ، اور تڑپ ہے۔
- ہر روز ایک جنگ ہے: تمہاری محبت اللہ کے لیے ہے یا کسی اور خواہش کے لیے؟
اگر تم اللہ کے بندے ہو، تو تمہیں ہر اُس چیز کو کاٹنا ہوگا جو اُس کی جگہ دل میں لے چکی ہو۔
خواہشات کو کیوں چھوڑا جائے؟ روح کا سائنسی اصول
شیخ (قدس سرہ) روحانی سائنس بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جیسے ایٹم ایک دوسرے سے جڑنے کے لیے اپنے الیکٹران کو خارج کرتے ہیں، ویسے ہی تمہیں بھی منفی توانائی (گناہ، غفلت، نفس) چھوڑنا ہو گا تاکہ تم نورِ محمدی ﷺ سے جُڑ سکو۔‘‘
یہ ایک روحانی مقناطیسی حقیقت ہے:
- گناہ اور نفس کی خصلتیں منفی چارجز کی مانند ہیں۔
- نورِ محمدی ﷺ مثبت توانائی ہے جو صرف خالص دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
- جب تک منفی چارج موجود ہو، اتصال نہیں ہو سکتا۔
خلاصہ: ’’اپنی منفی توانائی کو چھوڑ دو، پھر دیکھو کہ تم کس طرح نورِ محمدی ﷺ کی طرف کھنچنے لگتے ہو۔‘‘
شیخ: زندہ مقناطیسِ محمدی ﷺ
محبوب شیخ (قدس سرہ) فرماتے ہیں کہ سچا شیخ صرف کوئی مقرر یا فلسفی نہیں ہوتا، وہ محمدی ﷺ حقیقت کا زندہ مقناطیس ہوتا ہے۔
- اگر تمہاری روح میں نور ہے، تو تم فوراً اُس سے کھنچتے ہو۔
- اگر تمہارے اندر منفی توانائی ہے، تو تم دور بھاگتے ہو۔
یہ عقل یا منطق کی بات نہیں—یہ توانائی کی بات ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ’’یہ تمہاری ذہانت نہیں، جو تمہیں دور کر رہی ہے—بلکہ تمہاری منفی توانائی تمہیں پسپا کر رہی ہے۔‘‘
مگر اس راہ کی رحمت یہ ہے کہ: جو ابتدا میں دور ہوتے ہیں، جب ان کی روح جاگتی ہے، وہی لوگ دوبارہ پلٹ آتے ہیں۔
صرف مدینۂ ظاہری نہیں—روحانی مدینہ
شیخ (قدس سرہ) فرماتے ہیں کہ: ’’سیدنا محمد ﷺ کی روحانی حضوری کسی بھی جگہ سے حاصل ہو سکتی ہے—مگر شرطیں ہیں۔‘‘
- دل کا پاک ہونا ضروری ہے (روحانی وضو)
- درود شریف مسلسل ہو
- تفکر تمہاری سانس بن جائے
صرف ظاہری وضو کافی نہیں—اگر انسان تنہائی میں حرام میں مشغول ہو تو اُس کی روح پلید ہو جاتی ہے، خواہ جسم کتنا بھی پاک دکھے۔
درود شریف: صفر نقطۂ پرواز
ہر درود شریف روحانی انجن کا “زیرو پوائنٹ” ہوتا ہے—ایسا روحانی ایندھن جو فوراً روح کو نورِ محمدی ﷺ کی طرف پرواز کرا دیتا ہے۔
جو شخص:
- خالص نیت سے
- پاکیزہ کردار سے
- مسلسل تفکر کے ساتھ
درود پڑھتا ہے، اُس کی روح رحمت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتی ہے۔
مدینہ کی زیارت: جسم کی تکمیل
شیخ فرماتے ہیں: ’’جب روح سالوں کی مجاہدہ، تفکر، خدمت اور درود سے صاف ہو جائے، تو پھر جسم کو مدینہ لے جایا جائے تاکہ اُس پر بھی تجلیات کا لباس چڑھایا جا سکے۔‘‘
- یہ سفر “آغاز” نہیں بلکہ “تکمیل” ہے۔
- اس وقت مدینہ کی زیارت روحانی تقرّب کا ظاہری جامہ بن جاتی ہے۔
حقیقی اطاعت کیا ہے؟
شیخ (قدس سرہ) فرماتے ہیں: ’’تم کہتے ہو کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو، مگر تمہارے اعمال بتاتے ہیں کہ تم کس کے غلام ہو۔‘‘
- اگر تم پر کوئی چیز (خواہش، لت، گناہ) غالب ہے تو تم اُس کے بندے ہو۔
- پہچان ہی پہلا قدم ہے۔
اسی لیے طریقت ضروری ہے:
- یہ تمہیں نفس سے جنگ سکھاتی ہے
- یہ تمہیں جھوٹے خداؤں سے آزاد کرتی ہے
- یہ تمہیں اُس ہستی تک لے جاتی ہے جو اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہے—سیدنا محمد ﷺ
اختتامیہ: رحمت کے سمندر میں داخلہ
سفرِ محمدی ﷺ قدموں سے نہیں، روح سے طے ہوتا ہے۔
اور روح کو:
- صاف کیا جاتا ہے
- محبت سے جذب کیا جاتا ہے
- درود سے فعال کیا جاتا ہے
- تفکر سے زندہ کیا جاتا ہے
جب دل میں ادب، کردار میں خیر، زبان پر درود، اور زندگی میں خدمتِ شیخ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس روح کو اپنے محبوب ﷺ کی دائمی قربت عطا فرما دیتا ہے۔
آئیے، ہم اپنے دل کو جھوٹ، خواہش، اور فریب سے خالی کریں—تاکہ اُس میں حقیقت، نور اور حضور ﷺ کی محبت سما جائے۔
یا ربّی، ہماری فنا میں اپنی رضا عطا فرما۔ ہمیں اپنے سوا کسی کا بندہ نہ بنا۔ ہمیں نورِ محمدی ﷺ کی قربت عطا فرما۔
اور ہمیں ہمیشہ اپنے اولیاء، خاص کر محبوب شیخ نورجان میر احمدی (قدس اللہ سرہ) کے زیرِ سایہ تربیت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين. بحرمة محمد المصطفى وبسر سورة الفاتحة
ہم اپنے لکھنے والوں کا خاص شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس صحبت کو لکھنے میں مدد کی۔
صحبت کی اصل تاریخ: 1 مئی، 2025
ملتی جلتی تحریریں
- Direct Your Heart to the Most Powerful Magnet
- Reality of Magnetism in the Body
- How to Move to Nothingness, Enter Oceans of Rahmah
- You Need a Guide to Fight Addiction to Bad Desires
- Holographic Universe and the Love Binding its Atomic Structure – Q&A
مہربانی کر کے چندہ دیں اور ان آسمانی علوم کو پھیلانے کے لیے نیچے دل کے بٹن پر کلک کر کے ہماری مدد کریں
کاپی رائٹ © ۲۰۲۵ نقشبندی اسلامک سینٹر آف وینکوور، سارے حق محفوظ ہیں










